Akbar Allahabadi

Akbar Allahabadi

16 November 1846

15 February 1921

Akbar Allahabadi
Akbar Allahabadi

Akbar Allahabadi

Akbar Allahabadi (اکبر الہ آبادی) Was The Poet Born In Allahabad British India On 16 November 1846. Akbar Allahabadi Full Name Is Akbar Hussain Rizvi And His Occupation Was Also A Judge. Akbar Allahabadi Passed Metric In Madras Religious Elementary School Which Was Traditional For Muslims Child’s. Akbar Allahabadi Died In 15 February 1921 Age Of 74 Years.

Akbar Allahabadi poetry

 

Aqal Mein Jo Ghir Gaya La Intiha Kun Kar Hua

Akbar Allahabadi
Akbar Allahabadi

Aqal Mein Jo Ghir Gaya La Intiha Kun Kar Hua
Jo Sama Mein Aa Gya Phir Wo Khuda Kun Kr Hua

Coat Or Patlon Jab Pehna Tu Mister Ban Gaya

Coat Or Patlon Jab Pehna Tu Mister Ban Gaya
Jab Koi Taqreer Ki Jalse Mein Tu Leader Ban Gaya

Ghamza Nahi Hota Keh Ishara Nahi Hota

Ghamza Nahi Hota Keh Ishara Nahi Hota
Aankh Un Se Jo Milti Hai Tu Kya Kya Nahi Hota

Ishq Nazuk-Mizaj Hai Behad

Akbar Allahabadi
Akbar Allahabadi

Ishq Nazuk-Mizaj Hai Behad
Aqal Ka Bojh Utha Nahin Sakta

Mohabat Ka Tum Se Asar

Mohabat Ka Tum Se Asar Kya Kahun
Nazar Mil Gayi Dil Dharkne Laga

Kuch Nahi Kar-E Falak Hadsa Pashi Ke Siwa

Kuch Nahi Kar-E Falak Hadsa Pashi Ke Siwa
Falsifa Kuch Nahi Alfaz Tirashi Ke Siwa

Ishq Nazuk Mazaj Hai Be-Had

Ishq Nazuk Mazaj Hai Be-Had
Aqal Ka Bhoj Utha Nahi Sakta

Haya Se Sir Jhuka Lena Ada Se Muskara Dena

Akbar Allahabadi
Akbar Allahabadi

Haya Se Sir Jhuka Lena Ada Se Muskara Dena
Haseeno Ko Bhi Kitna Sahal Hai Bijli Gira Dena

Boot Dawson Ne Bnaya Mein Ne Ik Mazmoon Likha

Boot Dawson Ne Bnaya Mein Ne Ik Mazmoon Likha
Mulk Mein Mazmoon Na Phela Aur Jota Chal Gaya

Bataon Ap Ko Marne Ke Baad Kya Ho Ga

Bataon Ap Ko Marne Ke Baad Kya Ho Ga
Pulao Khaenge Ahbab e Fatiha Ho Ga

Tu Dil Mein Tu Aata Hai

Bas Jaan Gaya Mein Teri Pehchan Yehi Hai
Tu Dil Mein Tu Aata Hai Samajh Mein Nahi Aata

Ham Aah Bhi Karte Hain Tu Ho Jate Hain Badnam

Akbar Allahabadi
Akbar Allahabadi

Ham Aah Bhi Karte Hain Tu Ho Jate Hain Badnam
Wo Qatal Bhi Karte Hain Tu Charcha Nahi Hota

Khuda Se Mang Jo Kuch Maangna Hai Akbar

Khuda Se Mang Jo Kuch Maangna Hai Akbar
Yehi Wo Dar Hai Ke Zillat Nahi Sawal Ke Bad

Ghazab hai woh zidi barre ho gaye

Ghazab hai woh zidi barre ho gaye
Main letta to uth ke kharre ho gaye

Aah jo dil se nikali jaegiurdupoetrywala.com

Akbar Allahabadi
Akbar Allahabadi

Aah jo dil se nikali jaegi
kia samjhte ho ke se khali jaegi

______________________

Akbar Allahabadi poems

 

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا

جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
اٹھ بھی جائے گا جہاں سے تو مسیحا ہوگا

وہ تو موسیٰ ہوا جو طالب دیدار ہوا
پھر وہ کیا ہوگا کہ جس نے تمہیں دیکھا ہوگا

قیس کا ذکر مرے شان جنوں کے آگے
اگلے وقتوں کا کوئی بادیہ پیما ہوگا

آرزو ہے مجھے اک شخص سے ملنے کی بہت
نام کیا لوں کوئی اللہ کا بندا ہوگا

لعل لب کا ترے بوسہ تو میں لیتا ہوں مگر
ڈر یہ ہے خون جگر بعد میں پینا ہوگا

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا
بت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملا

بزم یاراں سے پھری باد بہاری مایوس
ایک سر بھی اسے آمادۂ سودا نہ ملا

گل کے خواہاں تو نظر آئے بہت عطر فروش
طالب زمزمۂ بلبل شیدا نہ ملا

واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نے
کر دیا کعبے کو گم اور کلیسا نہ ملا

رنگ چہرے کا تو کالج نے بھی رکھا قائم
رنگ باطن میں مگر باپ سے بیٹا نہ ملا

سید اٹھے جو گزٹ لے کے تو لاکھوں لائے
شیخ قرآن دکھاتے پھرے پیسا نہ ملا

ہوشیاروں میں تو اک اک سے سوا ہیں اکبرؔ
مجھ کو دیوانوں میں لیکن کوئی تجھ سا نہ ملا

طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا

طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا
گئے فرہاد و مجنوں اب کسی سے دل نہیں ملتا

بھری ہے انجمن لیکن کسی سے دل نہیں ملتا
ہمیں میں آ گیا کچھ نقص یا کامل نہیں ملتا

پرانی روشنی میں اور نئی میں فرق اتنا ہے
اسے کشتی نہیں ملتی اسے ساحل نہیں ملتا

پہنچنا داد کو مظلوم کا مشکل ہی ہوتا ہے
کبھی قاضی نہیں ملتے کبھی قاتل نہیں ملتا

حریفوں پر خزانے ہیں کھلے یاں ہجر گیسو ہے
وہاں پہ بل ہے اور یاں سانپ کا بھی بل نہیں ملتا

یہ حسن و عشق ہی کا کام ہے شبہ کریں کس پر
مزاج ان کا نہیں ملتا ہمارا دل نہیں ملتا

چھپا ہے سینہ و رخ دل ستاں ہاتھوں سے کروٹ میں
مجھے سوتے میں بھی وہ حسن سے غافل نہیں ملتا

حواس و ہوش گم ہیں بحر عرفان الٰہی میں
یہی دریا ہے جس میں موج کو ساحل نہیں ملتا

کتاب دل مجھے کافی ہے اکبرؔ ؔدرس حکمت کو
میں اسپنسر سے مستغنی ہوں مجھ سے مل نہیں ملتا

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا

عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا
جو برہمن نے کہا آخر وہ سب کرنا پڑا

صبر کرنا فرقت محبوب میں سمجھے تھے سہل
کھل گیا اپنی سمجھ کا حال جب کرنا پڑا

تجربے نے حب دنیا سے سکھایا احتراز
پہلے کہتے تھے فقط منہ سے اور اب کرنا پڑا

شیخ کی مجلس میں بھی مفلس کی کچھ پرسش نہیں
دین کی خاطر سے دنیا کو طلب کرنا پڑا

کیا کہوں بے خود ہوا میں کس نگاہ مست سے
عقل کو بھی میری ہستی کا ادب کرنا پڑا

اقتضا فطرت کا رکتا ہے کہیں اے ہم نشیں
شیخ صاحب کو بھی آخر کار شب کرنا پڑا

عالم ہستی کو تھا مد نظر کتمان راز
ایک شے کو دوسری شے کا سبب کرنا پڑا

شعر غیروں کے اسے مطلق نہیں آئے پسند
حضرت اکبرؔ کو بالآخر طلب کرنا پڑا

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا
بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو
سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا
لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا

جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا
اب خشک مزاج آنکھیں بھی ہوئیں دل نے بھی مچلنا چھوڑ دیا

ناوک فگنی سے ظالم کی جنگل میں ہے اک سناٹا سا
مرغان خوش الحاں ہو گئے چپ آہو نے اچھلنا چھوڑ دیا

کیوں کبر و غرور اس دور پہ ہے کیوں دوست فلک کو سمجھا ہے
گردش سے یہ اپنی باز آیا یا رنگ بدلنا چھوڑ دیا

بدلی وہ ہوا گزرا وہ سماں وہ راہ نہیں وہ لوگ نہیں
تفریح کہاں اور سیر کجا گھر سے بھی نکلنا چھوڑ دیا

وہ سوز و گداز اس محفل میں باقی نہ رہا اندھیر ہوا
پروانوں نے جلنا چھوڑ دیا شمعوں نے پگھلنا چھوڑ دیا

ہر گام پہ چند آنکھیں نگراں ہر موڑ پہ اک لیسنس طلب
اس پارک میں آخر اے اکبرؔ میں نے تو ٹہلنا چھوڑ دیا

کیا دین کو قوت دیں یہ جواں جب حوصلہ افزا کوئی نہیں
کیا ہوش سنبھالیں یہ لڑکے خود اس نے سنبھلنا چھوڑ دیا

اقبال مساعد جب نہ رہا رکھے یہ قدم جس منزل میں
اشجار سے سایہ دور ہوا چشموں نے ابلنا چھوڑ دیا

اللہ کی راہ اب تک ہے کھلی آثار و نشاں سب قائم ہیں
اللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ میں چلنا چھوڑ دیا

جب سر میں ہوائے طاعت تھی سرسبز شجر امید کا تھا
جب صرصر عصیاں چلنے لگی اس پیڑ نے پھلنا چھوڑ دیا

اس حور لقا کو گھر لائے ہو تم کو مبارک اے اکبرؔ
لیکن یہ قیامت کی تم نے گھر سے جو نکلنا چھوڑ دیا

جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا

جلوہ عیاں ہے قدرت پروردگار کا
کیا دل کشا یہ سین ہے فصل بہار کا

نازاں ہیں جوش حسن پہ گل ہائے دل فریب
جوبن دکھا رہا ہے یہ عالم ابھار کا

ہیں دیدنی بنفشہ و سنبل کے پیچ و تاب
نقشہ کھینچا ہوا ہے خط و زلف یار کا

سبزہ ہے یا یہ آب زمرد کی موج ہے
شبنم ہے بحر یا گہر آبدار کا

مرغان باغ زمزمہ سنجی میں محو ہیں
اور ناچ ہو رہا ہے نسیم بہار کا

پرواز میں ہیں تیتریاں شاد و چست و مست
زیب بدن کیے ہوئے خلعت بہار کا

موج ہوا و زمزمۂ عندلیب مست
اک ساز دلنواز ہے مضراب و تار کا

ابر تنک نے رونق موسم بڑھائی ہے
غازہ بنا ہے روئے عروس بہار کا

افسوس اس سماں میں بھی اکبرؔ اداس ہے
سوہان روح ہجر ہے اک گل عذار کا

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا

جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
کہ مجھ کو دیکھ کے بسمل کو بھی سکون ہوا

غریب دل نے بہت آرزوئیں پیدا کیں
مگر نصیب کا لکھا کہ سب کا خون ہوا

وہ اپنے حسن سے واقف میں اپنی عقل سے سیر
انہوں نے ہوش سنبھالا مجھے جنون ہوا

امید چشم مروت کہاں رہی باقی
ذریعہ باتوں کا جب صرف ٹیلیفون ہوا

نگاہ گرم کرسمس میں بھی رہی ہم پر
ہمارے حق میں دسمبر بھی ماہ جون ہوا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *